Sunday, July 26, 2020

Surah Al-Araf verse no 159

Surah Al-Araf verse no 159

Surah Al-Araf verse no 159

سورة الأعراف آیت نمبر : 159



image




اور قوم موسیٰ میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو حق کے مطابق ہدایت کرتی ہے اور اسی کے مطابق انصاف بھی کرتی ہے

انبیاء کا قاتل گروہ خبر ہے کہ امت موسیٰ میں بھی ایک گروہ حق کا ماننے والا ہے

جیسے فرمان ہے آیت ( 113) 3-آل عمران:113 )

لَيْسُوْا سَوَاۗءً ۭ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَاۗىِٕمَةٌ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ وَھُمْ يَسْجُدُوْنَ


( وَاِنَّ مِنْ
اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ ۙ لَا يَشْتَرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ

(ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ (199

یعنی اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس پر جو

تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اور اس پر جو ان کی طرف اتارا گیا ہے ایمان کا اور

اس کی حقانیت کا اعلان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس سے پہلے ہی مسلمان

تھے انہیں ان کے صبر کا دوہرا اجر ہے اور آیت میں ہے

Surah Al Baqrah Ayat no 121

( اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهٗ 
حَقَّ تِلَاوَتِهٖ ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ (١٢١ )2



البقرة:121 ) ، جو لوگ ہماری کتاب پائے ہوئے ہیں اور اسے حق تلاوت کی 

ادائیگی کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ اس قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور فرمان ہے 


Surah As Sajdah ayat no 107


 قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖٓ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ

 لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا ١٠٧؀ۙ{السجدہ} ) 17- الإسراء:107 )

جو لوگ پہلے علم دیئے گئےہیں وہ ہمارے پاک قرآن کی آیتیں سن کر سجدوں میں گر پڑتے ہیں 
ہماری پاکیزگی کا اظہار کر کے ہمارے وعدوں کی سچائی بیانکرتے ہیں ۔ اپنی ٹھوڑیوں کے بلروتے ہوئے سجدے کرتے ہیں اور عاجزی اور اللہ سے خوف کھانے میں سبقت لے جاتے ہیں امام ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اس جگہ ایک عجیب خبر لکھی ہے کہابن جریج فرماتے ہیں جب بنی اسرائیل نے کفر کیا اور اپنے نبیوں کو قتل کیا انکے بارہ گروہ تھے ان میں سے ایک گروہ اس  نالائق گروہ سے الگ رہا اللہ تعالیٰ سے معذورت کی اور دعا کی کہ ان میں اور ان گیارہ گروہوں میں وہ تفریق کر دے  

چنانچہ زمین میں ایک سرنگ ہو گئی یہ اس میں چلے گئے اور چین کے پرلے پار   نکل گئے وہاں پر سچے سیدھے مسلمان انہیں ملے جوہمارےقبلہ کی طرفنمازیں پڑھتے تھے ۔ کہتے ہیں کہ
 آیت ( وَّقُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ 

فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًا
١٠٤؀ۭ ) 17- الإسراء:104 ) کا یہی مطلب ہے ۔ 

اس آیت میں جس دوسرے وعدے کا ذکر ہے یہ آخرت کا وعدہ ہے ۔ کہتے ہیں اس سرنگ میں ڈیڑھ سال تک وہ چلتے رہے ۔ کہتے ہیں اس قوم کے اور تمہارے   درمیان ایک نہر ہے ۔



Saturday, July 11, 2020

Do you know difference in between Pray and Destiny



کیا آپ کو پتہ ہے تقدیر اور دعا میں کیا فرق ہے جانیے ؟



image
Dua and Taqdeer

  Destiny (Taqdeer) : تقدیر

تقدیر یہ وہ خاص طاقت و قوت ہے جو آنکھ والے کو اندھا اور عقل والے کو بے و قوف بنا دیتی ہے

  Pray (Dua) : دعا



دعا کیا ہے اور کس طرح مانگنی چائیے دعا یہ وہ شاندار کوشش ہے جو تقدیر جیسی قوت پے غالب آجاتی ہے دعا مانگنے کا صیح طریقہ کیا ہے اور کس وقت مانگنی چائیےاور کونسی جگہ مانگنی چائیے جانیے آج کی اس تحریر میں اگر پسند آئے تو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر ضرور کریں

: دعا کس وقت اور کیسے مانگنی چائیے

دعا کرنے کے لیئے اللہ پاک کی ذات نے نہ کوئی وقت مقرر کیا ہے اور نہ ہی کوئی جگہ مقرر کی ہے اگر کوئی بڑا ہے تو وہ چھوٹے سے دعا کروا سکتا ہے اور اگر کوئی چھوٹا ہے تو وہ بڑے سے دعا کروا سکتا البتہ یہاں تک کے شاگرد استاد سے دعاکروا سکتا ہے اور استاد شاگرد سے دعا کروا سکتا اس میں کوئی کوباہت نہیں آپ کسی بھی جگہ دعا کر سکتیں ہیں اور کسی سے بھی دعا کروا سکتیں ہیں اس میں کوئی ہرج نہیں دعا بھی عبادت ہے اور یہ صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے اور اللہ ہی سے دعا کیجیئے گا انشاء اللہ وہ ذات ضرور قبول فرمائے گی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا آپ کے تعاون کا شکریہ
  • دعا کے کوئی خاص جگہ مقرر نہیں
  • دعا کسی کے لیے بھی آپ کر سکتے ہیں اور کسی سے بھی کروا سکتے ہیں
  • دعا کے لیے نہ کوئی وقت مقرر ہے اور نہ ہی کوئی جگہ
  • استاد شاگر سے کروا سکتا ہے اور شاگرد استاد سے
  • دعا بھی ایک عبادت ہے جو صرف خاص اللہ کے لیے ہے اور اس سے ہی مانگنی چاییے

آؤ آج سب مل کر اللہ پاک سے دعا مانگتے تاکہ اللہ پاک کی ذات ہماری بخشش فرما کر ہمیں جنت الفردوس میں اعٰلی عرفا مقام عطا فرمائے

یا اللّٰه عزوجل جو پریشان ہیں اور اپنی پریشانیوں کو کسی سے بیان بھی نہیں کرنا چاہتے ان کی پریشانیوں کو تیرے علاوہ کوئی نہیں جانتا اے اللّٰه ان کی پریشانیوں کو دور فرما، اے اللّٰه تُو اپنے نیک اور بھلے بندوں کو جو دیا کرتا ہے وہ ہم سب کو عطا فرما۔

the month of rajab and it's innovations

the month of rajab and it's innovations

the month of rajab and it's innovations ?

image
image

importance of the month rajab in islam

ماہ رجب اور اس کی بدعات
اسلامی سال کا ساتواں مہینہ رجب ہے

وجہ تسمیہ

لفظ رجب ترکیب سے جس کے معنی تعظیم کے ہیں، اس مہینے کی تعظیم اور حرمت کی وجہ سے اس کا نام رجب رکھا گیا کیونکہ عرب اس مہینے میں لڑائی سے گریز کرتے تھے

رجب کے فضائل

جیسے شعبان، رمضان اور ذوالحجہ کی فضیلت ہے لیکن رجب کا مہینہ ایسا ہے جس کی کوئی امتیازی فضیلت کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے سوائے اس کے کہ ماہ رجب چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے

سورۃ التوبہ کی آیت نمبر : 36

بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی 12 مہینے ہی ہیں اللہ کی کتاب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سال میں 12 مہینے ہیں، ان میں چار حرمت والے ہیں جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان میں چار مہینےحرمت والے ہیں تین مسلسل ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور چوتھا رجب ہے جو جمادی الاخری اور شعبان کے درمیان ہے

بخاری

ان چار مہینوں میں اہل عرب جنگ وجدال کو نا پسند کرتے تھے ماہ رجب کو صرف یہ فضیلت ہے کہ یہ 4 حرمت والے مہینوں میں سے ایک حرمت والا مہینہ ہے

ماہ رجب کی رسومات اور بِدعات

صلاة الرغائب

س سلسلے میں حدیث بیان کی جاتی ہے کہ جو رجب کی پہلی جمعرات کے دن روزہ رکھے اور مغرب اور عشاء کے درمیان 12 رکعتیں مخصوص طریقے سے پڑھے اس کی دعا قبول ہو گی یہ حدیث ضعیف ہے یہ نماز بدعت ہے جس کا آغاز 4 صدی کے بعد ہوا

رجب کے روزے

حافظ ابن حجر کہتے ہیں رجب کے روزوں کی فضیلت اور کسی رات کے قیام کی فضیلت کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے اس سلسلے میں جتنی بھی احادیث بیان کی جاتی ہیں وہ سب ضعیف اور موضوع ہیں

رجب کی ستائیسویں رات کی عبادت اور دن کا روزہ

عوام الناس میں یہ بات مشہور ہے کہ اس رات معراج ہوئی تھی حالانکہ معراج کی تاریخ میں اختلاف ہے

  • ایک قول کے مطابق ہجرت سے ایک سال قبل ربیع الاول 12 ہجری میں یہ واقعہ پیش آیا
  • دوسرے قول کے مطابق 12 رجب کو یہ واقعہ پیش آیا
  • تیسرا قول یہ ہجرت سے 6 ماہ قبل یا 11 ماہ قبل واقعہ پیش آیا
  • الرحیق المختوم میں ہے یہ واقعہ مکی زندگی کے آخری دور میں پیش آیا
  • لہذا یہ بات جو لوگوں میں مشہور ہے کہ واقعہ 27 رجب کو ہوا، درست نہیں ہے
  • فرض کریں درست بھی ہو تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس رات اور اگلے دن عبادت کرنی چاہیے یہ عبادت اور روزہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت نہیں ہے

رجب کا عمرہ

بعض لوگ اس مہینے میں عمرہ کرنے کو افضل سمجھتے ہیں حالانکہ اس مہینے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلمنے عمرہ نہیں کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کل 3 عمرے کیے ہیں

  • پہلا عمرہ القضاء ذی الحجہ 7 ہجری میں کیا
  • دوسرا عمرہ جعرانہ کے مقام سے ذی الحجہ 8 ہجری میں کیا
  • تیسرا عمرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحجہ 10 ہجری میں کیا
  • لہذا یہ عقیدہ بھی باطل ہے

رجب کے کونڈے

یہ رسم 1906 میں شروع ہوئی جب ہندوستان کی ریاست سام پور کے خورشید احمد نامی شخص نے "داستان عجیب" کے نام سے ایک قصہ شائع کروایا جس میں امام جعفر کے حوالے سے لکھا کہ"جو شخص 22 رجب کو میرے نام کی نیاز (کونڈے) دے اور میرے ذریعے حاجت مانگے تو ضرور پوری ہو گی اور اگر نہ ہوئی تو قیامت کے دن میرا دامن ہو گا اور اس کا ہاتھ
  • غور کیجیے جو رسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے 1400 سال کے بعد شروع ہو رہی ہے، وہ بدعت کے علاوہ کیا ہے؟
  • غیر اللہ کی نیاز دینا شرک فی العبادة ہے
  • یہ حضرت امام جعفر جیسی ہستی کی شخصیت پر الزام ہے کہ وہ شرک کرنے کا حکم دیں
  • اصل میں 22 رجب کو امام جعفر کی ولادت ہوئی نہ وفات اور نہ آپ کی زندگی کا کوئی اہم واقعہ اس دن پیش آیا
  • اصل بات یہ ہے کاتب وحی حضرت امیر معاویہ نے 22 رجب کو وفات پائی لہذا جو لوگ ان کو برابھلا کہتے ہیں وہ اس دن نیاز دے کر خوشی مناتے ہیں یہ شیعہ فرقے کے لوگ کرتے ہیں ان کے کیلنڈر پر 22 رجب کو مرگ معاویہ نعوذباللہ لکھا ہوتا ہے
  • آج سنی لوگ بھی کونڈے بھر کر شرک کرتے ہیں اس گناہ عظیم سے ہم کو بچنا چاہیے

اس مہینےمیں زکوٰۃ دینا

اس مہینے کو زکوٰۃ کے لیے مخصوص کرنا بھی بدعت ہے اس سلسلے میں قرآن و حدیث سے کوئی ہدایت نہیں ملتی

حرفِ آخر

ماہ رجب میں مخصوص نماز پڑھنا، مخصوص روزہ رکھنا، زکوة کا خاص طور پر اہتمام کرنا، عمرہ کرنا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہوتا اس سلسلے میں جتنی بھی احادیث بیان کی جاتی ہیں وہ ضعیف اور موضوع ہیں رجب کے مہینے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تین تحفے ملے
  • اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو 5 وقت کی نماز کا تحفہ دیا
  • سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات کا تحفہ دیا یہ دو واحد آیات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کواس موقع پر دیں باقی پورا قرآن آپ کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام لے کر آتے تھے وہ آیات اللہ نےخود آپ پر وحی کیں
  • اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو امامت کا تحفہ دیا تھا

رجب میں کرنے والے کام

  • نماز 5 وقت پاپندی کے ساتھ پڑھیں یہ رجب کا تحفہ ہے مسلمانوں کے لیے
  • سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات کی کثرت سے تلاوت کریں ان کی تفسیر سمجھیں یہ تحفہ بھی اللہ نے مسلمانوں کو دیا
  • معراج کے واقعہ کو پڑھیں اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت اور دوزخ دکھائی جنت میں لے جانے والے کام ہم کو کرنے چاہئیں اور دوزخ سے پناہ مانگنی چاہیے اللہ سے کثرت سے توبہ استغفار کرنی چاہیےکیونکہ دوزخ کا عذاب برحق ہے
  • شرک نہیں کرنا ہے، بدعت نہیں کرنی ہے
  • ان لیکچرز کو آگے ضرور سینڈ کریں، اللہﷻ ہمیں ماہِ رجب کی فضیلت کو صحیح سمجھنے کی توفیق دیں اور بدعات سے بچائیں آمین

Tuesday, November 26, 2019

Allah Ka Naik Banda

Allah Ka Naik Banda

ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھےاللہ کے محبوب بندے کے بارے میں بتائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےبیان فرمایا
اللہ کا محبوب بندہ وہ ہے جو غصہ نہیں کرتا اگر آجائے تو پی جاتا ہے اوردوسروں کو معاف کر دیتا ہے

Allah Ka Pyaara Banda

ارشاد باری تعالیٰ ہے
غصے کو پینے والا لوگوں کو معاف کرنے والا اور اللہ تعالی نیکی کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے
وہ لوگ جو بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
بہت زیادہ طاقت بار وہ رہی جو مقابل کو بہت زیادہ بچھڑنے والا ہے بہت زیادہ دور صرف وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے گے
کسی نار کوار چیز پر غصہ آ جانا فطرتی چیز ہے اس لئے اس کا علاج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا ہے
ارشاد باری تعالیٰ ہے
اگر تمہیں شیطان کی طرف سے چوکا لگے یعنی شیطان غصہ دلائے تو اللہ کی پناہ مانگ یقیناً وہی سننے والا جاننے والاہے
سیدنا عثمان بن صرد رضی اللہ تعالی عنہا فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا آدمی آپس میں گالی گلوچ کر رہے تھے ان میں سے ایک اچھرا سرخ ہو گیا اور گلے کی رنگے پھول گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ایک ایسا کلمہ موت ہے کہ اگر یہ وہ کلمہ کہہ دے تو اس کی یہ حالت ختم ہو جائے گی اگر یہ کہہ دے
تو جو کچھ اس پر گزر رہی ہے ختم ہوجائےگی سید رجب نے عباس فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو خاموش ہو جاؤ
سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں
کسی کو غصہ آئے آئے اور وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر غصہ ختم ہو جائے تو بہتر ورنہ لیٹ جائے

Saturday, October 19, 2019

Important aspects of the life of Hazrat Abu Zar Ghfari (may Allaah be upon him)

Hazrat Abu Zar Ghaffari Razi Allah Tallah Unho

حضرت ابو ذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی کی زندگی کے اہم پہلو

ان کا اسم گرامی جندب بن جنادہ ہے مگر اپنی کنیت کے ساتھ زیادہ مشہور ہیں۔ بہت ہی بلند پایہ صحابی ہیں اور یہ اپنے زہد وقناعت اورتقوی وعبادت کے اعتبار سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں ایک خصوصی امتیاز رکھتے ہیں

Important-aspects-of-the-life-of-Hazrat-Abu-Zar-Ghfari-(may-Allaah-be-upon-him)

اسلام قبول کرنے میں ان کا کتنا نمبر ہے ؟

یہ ابتداءِ اسلام ہی میں مسلمان ہوگئے تھے یہاں تک کہ بعض مؤرخین کا قول ہے کہ اسلام لانے میں ان کا پانچواں نمبر ہے ۔

image

کہاں اسلام قبول کیا ؟

انہوں نے مکہ مکرمہ میں اسلام قبول کیا پھر اپنے وطن قبیلۂ بنی غفار میں چلے گئے پھر جنگ خندق کے بعد ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے اورحضورعلیہ الصلوۃ والسلامکے بعد کچھ دنوں کے لیے ملک شام چلے گئے پھر وہاں سے لوٹ کر مدینہ منورہ آئے اور مدینہ منورہ سے چند میل دور مقام ''ربذہ'' میں سکونت اختیارکرلی۔

کب وفات پائی؟

بہت سے صحابہ اورتابعین علم حدیث میں آپ کے شاگرد ہیں۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں بمقام ربذہ ۳ ھ میں آپ نے وفات پائی۔
ان کے بارے میںحضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جس شخص کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زیارت کا شوق ہووہ ابوذر کا دیدارکرلے۔
روایت میں ہے کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کا وقت قریب آیا تو ان کی بیوی صا حبہ رونے لگیں ۔ آپ نے پوچھا تم روتی کیوں ہو؟

آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہاں وصال فرمایا ؟:

میں کیوں نہ روؤں جنگل میں آپ وصال فرما رہے ہیں اورہمارے پاس نہ کفن ہے نہ کوئی آدمی مجھے یہ فکر ہے کہ اس جنگل میں آپ کی تجہیز وتکفین کامیں کہاں سے اور کیسے انتظام کروں گی ؟

Hazrat-Abu-Zar-Ghafari-(RA)-nay-Nay-Kahan-Wasal-Farmaya

: آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا

تم مت روؤ اورنہ کوئی فکر کرو۔ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میرے صحابہ میں سے ایک شخص جنگل میں وصال فرمائے گا اوراس کے جنازہ میں مسلمانوں کی ایک جماعت حاضرہوجائے گی ۔
مجھے یقین ہے کہ وہ جنگل میں وصال کرنے والا صحابی میں ہی ہوں اس لئے تم فکر نہ کرو اور انتظار کرو ممکن ہے کوئی جماعت آرہی ہو ۔ یہ کہہ کر حضرت ابو ذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ وصال فرماگئے۔
ان کی بیوی کا بیان ہے کہ وصال کے تھوڑی ہی دیر کے بعد اچانک چند سوار آگئے اورایک نوجوان نے اپنی گٹھڑی میں سے ایک نیا کفن نکالا اور آپ اسی کفن میں مدفون ہوئے اورسواروں کی اس جماعت نے نہایت ہی اہتمام کے ساتھ تجہیز وتکفین اورنماز جنازہ ودفن کا انتظام کیا ۔
بخاری شریف کی روایت ہے کہ جب حضرت ابو ذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمان ہوئے تو روزانہ مسجد حرام میں جاکر اپنے اسلام کا اعلان کرتے رہتے اورکفار مکہ ان کو اس قدر مارتے تھے کہ یہ مرنے کے قریب ہوجاتے تھے.
اورحضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو لوگوں سے یہ کہہ کر بچایا کرتے تھے کہ یہ قبیلہ غفار کے آدمی ہیں جو تم قریشیوں کی شامی تجارت کی شاہراہ پر واقع ہے ۔ لہٰذا ان کو ایذامت دو ورنہ تمہاری شامی تجارت کا راستہ بند ہوجائے گا۔
حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ پندرہ دن اور پندرہ رات اسی حرم کعبہ میں روزانہ اپنے اسلام کا اعلان کرتے اورکفار سے مار کھاتے رہے اوران پندرہ دنوں اور راتوں میں زم زم شریف کے پانی کے سوا ان کو گیہوں یا چاول کا ایک دانہ یا ذرہ برابر کوئی دوسری غذا میسر نہیں ہوئی مگریہ صرف زمز م شریف پی کر زندہ رہے اور پہلے سے زیادہ تندرست اورفربہ ہوگئے ۔
اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔۔۔ آمین ۔
( کرامات صحابہ ، ص؛ 239 )